Posts

Image
"امن کا پیغام" تحریر: محمد ارسلان مجدؔدی Email: marsalan484@gmail.com "حکومت پاکستان" اور عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی اور دشمن کی سازشوں کا دلیری سے مقابلہ اپنی سرزمین پر کر رہے ہیں۔ پاکستان کی سرزمین پر کئی خودکش حملے ہوئے۔ جس میں کئی افوج پاکستان، رینجر اور پولیس کے جوانوں سمیت  عوام میں  بوڑھے بچے اور عورتیں سبھی نے اپنی جان کے نذرانے پیش کیے۔ پھر بھی اس پاک ملک پر جھوٹے الزامات پڑوسی ملک کی طرف سے لگتے رہے۔ اللہ کریم کی ذات  بہت کریم ہے۔ جس نے گذشتہ برس 27 فروری 2019 کو  دنیا کے سامنے پاکستان کو سرخرو فرمایا۔ اور  پاکستان کا  نام روشن فرمایا۔ مجھے اب  بھی وہ منظر یاد ہے جب مجھے میرے ہم جماعتوں نے  یہ خبر دی کہ پاکستان کی کاروائی کی بدولت  بھارت کے طیارے گرائے جا چکے ہیں  اور ان کے ایک پائلٹ کی تلاش جاری ہے۔ فوری طور پر جب ہم نے انٹرنیٹ پر آن لائن خبر دیکھنے کی کوشش کی یہ خبر درست ثابت ہوئی۔ ہم دعا گو  ہوئے تھے کہ پاکستان کو فتح نصیب ہو۔  وہی ہوا چند منٹوں بعد پھر خبر موصول ہوئی  کہ بھارتی پائلٹ کو گرفتار ک...
Image
"سوچ کا کینسر" تحریر" محمد ارسلان مجدؔدی جسم میں موجود کینسر سے ہر شخص واقف ہے۔ منفی سوچ والے شخص کو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ "سوچ کا کینسر" رکھتا ہے۔ مطلب خود منفی خیالات پیدا کرکے مفروضہ قائم کرتا ہے، خبر ہر شخص تک اس طرح پہنچاتا ہے گویا حقیقت ہو، پھر خود ہی فیصلہ کرکے نتیجہ بتا دیتا ہے فلاں شخص اس شخصیت کا مالک ہے۔ قرآن کریم میں "اللہ پاک" فرماتے ہیں: ’’اے ایمان والو! زیادہ تر گمانوں سے بچا کرو بیشک بعض گمان (ایسے) گناہ ہوتے ہیں (جن پر اُخروی سزا واجب ہوتی ہے) اور (کسی کے غیبوں اور رازوں کی) جستجو نہ کیا کرو اور نہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی کیا کرو، کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ وہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے، سو تم اس سے نفرت کرتے ہو۔ اور (اِن تمام معاملات میں) اﷲ سے ڈرو بیشک اﷲ توبہ کو بہت قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا ہےo‘‘  الحجرات، 49 : 12 درج بالا آیات کا مفہوم ہمیں ذہن کی منفی سوچ سے دور رہنے کو ترغیب دیتا ہے۔ آج کا انسان اتنا باشعور ہے کہ "بین الاقوامی" مسائل پر گہری سوچ اور نظریہ رکھتا ہے اچھے مشورے...

بےسائباں

Image
 "بےسائباں" از: محمد ارسلان مجدؔدی عصر ڈھل رہی تھی۔ "راشد منہاس روڈ" وہ ابو اور چھوٹے بھیا کے ساتھ موٹرسائیکل پر سوار تھی۔ اتوار کا دن ہونے کے باعث ٹریفک خاص نہ تھا۔لیکن پھر بھی موٹرسائیکل ہلکی رفتار میں تھی۔ کیونکہ وہ تینوں میٹھی میٹھی باتیں جو کر رہے تھے۔ "حسن" نے ابو سے پوچھا ابا حضور آپ "ساہیوال سے کراچی" کیسے آئے،  باقی فوجی چاچو بھی اپنے گھر چلے تو باڈر پر کون لڑے گا میں چلا جاؤں؟ نو سالہ "حسن" نے اپنے فوجی باپ سے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے مگر انہوں نے شفقت سے ایک کا ہی جواب دیا۔ "حسن" بیٹا آپ جب بڑے ہوجائیں گے تو پھر جاسکیں گے۔ ابھی تو آپ نے تعلیم مکمل کرنی ہےنا۔۔۔۔ اور آپی اور مما کا یہاں خیال بھی تو آپ رکھتے ہیں ہمارے گھر میں ایک فوجی تو ہونا چاہیئے اتنے کہتے انکی آنکھیں نم ہوئیں 13 سالہ "سارہ" والد کو بغور دیکھ رہی تھی۔ بابا جلدی چلیں نا آئسکریم ختم نہ ہوجائے حسن نے ابو کو مخاطب کرتے ہوئے التجا کی۔ چند لمحے گزرے ہی تھے کہ یکدم تین عدد موٹرسائیکل قریب آئیں اور اسلحہ سے ملبوس چند افراد نے رکنے کا اشارہ کیا...

عوام میں بڑھتا خوف از محمد ارسلان مجددی

Image
"عوام میں بڑھتا خوف" تحریر: محمد ارسلان مجدؔدی Marsalan484@gmail.com صبح سے شام تک ہر شخص کسی نا کسی خوف میں نظر آتاہے۔ کوئی بڑھتی مہنگائی کے خوف میں اور کوئی بچوں اور اپنی جان کے تحفظ کے خوف میں ہے۔ پاکستان بھر میں یہ خوف ہمیشہ عوام کی گردن پر ہی رہا ہے۔ غزائی اجناس گزشتہ 2 سال میں اس قدر مہنگی ہوئیں کہ مفلس اور مسکین سوچ کر ہی بیمار پڑ گیا۔ کئی افراد فاقہ کا شکار ہوئے تو کئی "فلاحی تنظیموں" کا تقسیم کردہ کھانا کھانے پر مجبور ہوئے۔ مرد اور بچے تو وہاں کھا لیتے ہیں پھر بچوں کا کیا قصور وہ گھروں میں محصور رہ جاتے ہیں۔ دوسری طرف بچوں اور بڑوں کی گمشدگی و قتل کے واقعات میں اضافہ محسوس ہوتاہے۔ "شہر قائد" کے ایک علاقے میں دن کی روشنی میں کم سن بچے کو اغوا کرکے اس کی آنکھیں نکال کر اسے پھینک دیا گیا۔ خوف پھیلا اور لیکن کیا کرفیو جیسی صورتحال پیدا کرکے والدین بچوں کو قید کرلیتے بلکہ نہیں انکی بہادری دیکھیں انہوں نے بچوں کے تحفظ کا ذمہ خود لیا۔ پھر اسکول، مدرسہ آنے جانے اور محلے میں کھیل کود کے دوران خود خیال رکھنے لگے۔ پھر بھی اغواکاری نہیں رکی۔ اب اغواکار...

The need of awareness and action writen by Muhammad Arsalan Mujadidi شعور اور عمل کی ضرورت از قلم محمد ارسلان مجدؔدی

Image
عنوان: شعور اور عمل کی ضرورت تحریر: محمد ارسلان مجدؔدی "عمر مختار" ایک ایسا انسان جس آج کی نوجوان نسل ناواقف ہے۔ ہونا بھی چاہیئے کیونکہ آج ہم تاریخ کے اوراک پڑھنے سے زیادہ چٹ پٹے لطیفے اور ناول وغیرہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ "عمر مختار" جن پر ایک دستاویزی فلم بھی بن چکی ہے۔ 1981ء میں ہالی وڈ فلم The Lion of Desert یعنی صحرا کا شیر۔ اس میں عمر مختار کو اطالوی حکومت اور فوج کا باغی ظاہر کیا گیا۔ اپنی شعوری سوچ کو بیدار کرتے ہوئے پوری ایمانداری سے بتائیں کیا وہ "عمرمختار" جو "لیبیا" کا باشندہ تھا۔ جس نے اپنی سرزمین دوسروں کے حوالے نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ 20 سال تک دشمن سے لڑتا رہا۔ "قرآن پاک" کا معلم بھی تھا۔ 73 سال کی عمر میں جب اسے اپنے پیروکاروں کے سامنے پھانسی دی جانے لگی تو تب بھی اس نے "قرآن پاک" کی ہی تلاوت کی تھی۔ دنیا کا کونسا قانون کہتا ہے طاقتور کسی بھی علاقے پر اپنی طاقت کے زور پر قبضہ کرے پھر وہاں کی عوام اگر اسے حکمران تسلیم نہ کرے تو اسے باغی قرار دے دیا جائے۔ یہی حال "عمر مختار" کے ساتھ ہوا تھا۔ یہی افغانستان م...