چاند سا بیٹا از قلم: محمد ارسلان مجددی
افسانہ: چاند سا بیٹا از قلم: محمد ارسلان مجددی فون کی گھنٹی بجی تو ماں نے گڑیا سے کہا "فون اٹھاؤ دیکھو کہ فون پر کون ہے۔ فون سننے کے بعد شام کی چائے بناتی ماں کے پاس گڑیا دوڑتی آئی۔ مما مما مما وہ فون پر کوئی کہہ رہا ہے رضوان بھائی ہسپتال میں ہیں۔ پہلے تو ماں کو اپنے کانوں پر یقین نہ ہوا۔ جب گڑیا سے دوبارہ پوچھ کر تصدیق کی تو پھر تیزی سے ماں نے redial کے بٹن کو دبایا۔ کچھ دیر میں فون پر کوئی بزرگ مخاطب تھے۔ بزرگ: اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ خاتون : وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بزرگ کی آواز سنائی دینے پر خاتون نے سوال کیا کہ "آپ کون بات کر رہے ہیں؟ کیا آپ نے ابھی فون کرکے میرے بیٹے کا بتایا تھا؟ کہاں ہے میرا رضوان اور اسے کیا ہوا ہے؟ چند لمحوں میں کئی سوال پوچھ ڈالے۔ بزرگ: جی میں نے ہی فون کرکے اطلاع دی تھی۔ بہن آرام اور تحمل سے بات کریں۔ مجھے تیز سننے کی عادت نہیں۔ دراصل آپ کا بیٹا ہمیں سڑک حادثے پر ملا ۔ ہم اسے ہسپتال لائے ہیں۔ آپ جناح ہسپتال ایمرجنسی وارڈ آجائیں۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد خاتون اپنے خاوند کے ساتھ ہسپتال میں دیوانگی سے اپنے بیٹے کو تلاش کر رہی تھی...
Comments
Post a Comment
Comment for more information or send me email on marsalan484@gmail.com . Thanks