Posts

"ترقی میں نوجوانوں کا کردار" از قلم: محمد ارسلان مجددی

Image
"ترقی میں نوجوانوں کا کردار" از قلم: محمد ارسلان مجددی،کراچی قوم، ریاست اور مزہب کی ترقی نوجوانوں کے بلند حوصلے اور مثبت سوچ کی وجہ ہوتی ہے۔ دنیا میں ترقی کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جن میں نوجوان نے اپنا خاص کردار ادا کیا۔ تاریخی تناظر میں دیکھیں تو آپ کو حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے پہلے سقراط اور افلاطون کے واقعات ملتے ہیں جنہوں نے نوجوان کو ترقی میں قیمتی سرمایہء محسوس کیا۔ حقیقتاً وہ سچ ثابت بھی ہوا۔ آج "شعبہ تعلیم" اور "شعبہ فلاسفی" میں بار بار نوجوان کی ذہن سازی اور صلاحیت کو ابھارنے پر زور دیا جاتا ہے کیونکہ"فلاسفرز اور ماہر تعلیم" اپنی تحقیق کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ دنیا میں ہر ترقی نوجوان کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔  "سلطان صلاح الدین ایوبی" کا عظیم کارنامہ کوئی نہیں بھول سکتا کہ انہوں نے اپنی جوانی کو اسلام کی ترقی کے لیے استعمال کیا تو "بیت المقدس" کو فتح کر لیا۔ "شہاب الدین غوری" ہندوستان آئے تو پہلی مسلم سلطنت کی بنیاد رکھ دی۔  ایک مسلمان عورت کے خط پہنچنے پر حجاج بن یوسف نے اپنے نوجوان بھتیجے "محمد بن قاسم...

Don't criticize, be responsible by Muhammad Arsalan Mujadadi تنقید نہیں ذمہ دار بنیں از محمد ارسلان مجددی

Image
"تنقید نہیں ذمہ دار بنیں" از قلم: محمد ارسلان مجدؔدی محلے سے گزرتی چند نوجوان دوشیزه پر گہری نظر ڈال کر بظاہر پڑھے لکھے اور باشعور نوجوان تنقید کے سخت الفاظ کی بارش کر رہے تھے کہ اچانک قریبی گھر سے بزرگ باہر نکلے۔  کہنے لگے بیٹا اول قصور تو ہمارا ہے کہ ہم اپنی آنکھ اور دماغ کو درست سمت نہیں دے رہے۔ اگر اچانک نظر پڑ ہی گئی ہے تو آپ کے دل و دماغ میں بےحیائی والے الفاظ اور جملے کیوں آئے؟ کیا یہ جملے استعمال ہونے سے پہلے ایک بار بھی نہ سوچا کہ اگر خدانخواستہ یہی نازیبا جملے آپکی بہن،بیٹی یا بہو کے بارے میں کوئی کہہ دے تو آپ کے دل پر کیا گزرے گی۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الانعام میں فرماتے ہیں:وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ (انعام: 151) ’’بے حیائی کے قریب بھی مت جاؤ، خواہ وہ کھلی ہو یا چھپی۔‘‘ اب یہ سب سن کر نوجوان آگ بگولہ ہوگیا کہ کوئی میرے گھر والوں کے خلاف کیوں بولے گا۔ ہم تو اتنے نیک ہیں کہ اب تک ہمارے گھر کی کوئی شکایت محلے میں نہیں آئی۔ بزرگ نے جواب دیا: بیٹا میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ یا آپکا گھرانہ برا ہے۔ بلکہ یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا...

"تبدیلی کا ارادہ" از قلم محمد ارسلان مجدؔدی

Image
"تبدیلی کا ارادہ" از قلم: محمد ارسلان مجدؔدی رمضان کا دوسرا عشرہ الحمد لله ہمیں نصیب ہو رہا ہے۔ بابرکت مہینے میں  ہم اب بھی بہت ساری غلطیاں کر رہے ہیں۔ شہر کراچی میں آپ فجر کی نماز کے فورا بعد باہر نکلیں۔ کئی علاقوں میں آپ کو نوجوان کرکٹ یا دوسری کھیل کھیلتے ہوئے نظر آئیں گے۔ سورج طلوع ہوتے ہی یہی نوجوان نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ رات بھر موبائل پر مختلف سرگرمیوں میں مصروف رہنے والے یہ نوجوان خود کو اپنے بڑوں سے زیادہ عقل مند سمجھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تبصرہ اور  اخلاقی باتیں کرنے والے اپنے اردگرد قریبی لوگوں سے سماجی تعلق مضبوط نہیں رکھتے۔ آخر ایسی کیا وجہ ہے ہر دوسرا گھر اس پریشانی سے دوچار ہے۔ والدین اپنے بچوں سے پریشان نظر آتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی شکایت کرتے ہیں کہ ان کو نصیحت کرنے اور ہدایت کرنے کا حق نہیں دیا جا رہا۔ ایک بناوٹی زندگی رہ گئی ہے کہ لوگوں کے سامنے ہماری عزت کی جاتی ہے لیکن حقیقت میں ہماری ایک نہیں سنی جاتی۔ اکثر انہی باتوں سے تنگ آکر والدین اپنی خواہشات ترک کردیتے ہیں۔  روزہ رکھنا خاص اللہ کے لئے ہوتا ہے، لیکن کئی نوجوان روزہ رکھ کر ا...

موجودہ حالات اور عام آدمی از قلم محمد ارسلان مجدؔدی

Image
"موجودہ حالات اور عام آدمی" از قلم: محمد ارسلان مجدؔدی شام کے 5:45 بج رہے تھے۔ "گودام چورنگی" سے پہلے "سندھ پولیس" کی جانب سے ناکہ پر ڈبل سوار موٹرسائیکل کو روک لیا۔ اور قانونی کاروائی کرتے ہوئے 520 روپے کا چلان کر دیا۔ موٹرسائیکل پر موجود مسافر خاتون التجا کر رہی تھیں کہ ہم غریب ہیں اور مجبوری کے تحت باہر نکلے ہیں۔ مہربانی کریں۔ "پولیس اہلکار" کہہ رہا تھا کہ ہم قانونی حکم سے مجبور ہیں آج صبح ہی "حکومت سندھ" نے تمام قسم کی "ڈبل سواری" پر سخت پابندی لگا دی ہے۔ یہ تھا آنکھوں دیا حال جو میری آنکھوں نے دیکھا۔ گزشتہ ماہ سے شروع ہونا والا "لاک ڈان" شہر قائد کے کئی افراد کو مجبور کو پیدل چلنے پر مجبور کر رہا ہے۔ صبح 6 بجے آپ سڑک پر نکلیں تو کئی بزرگ اور نوجوانوں کو پیدل چلتا پائیں گے یہ کوئی آوارہ نہیں ہیں بلکہ سیکورٹی گارڈ، پولیس اہلکار، فیکٹری یا کمپنی میں کام کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ حکومت وقت نے ہر طرح کی ٹرانسپورٹ بند کر رکھی ہے۔ مزدور طبقے سمیت کئی لوگ گاڑیوں کو ہاتھ کا اشارہ کرکے لفٹ کی درخواست کرتے ہیں۔ بہت س...

افسانہ: کچھ دیر سویرا ہے از قلم محمد ارسلان مجدؔدی

Image
افسانہ: "کچھ دور سویرا ہے" از قلم: محمد ارسلان مجدؔدی ابا جان یہ سو روپے آپ آپی کو دے دینا تاکہ وہ اسکول جاتے وقت اپنا کرایا  ادا کرسکیں۔ میں صبح دس بجے تک تک لوٹ آونگا۔  گیارہ سالہ شہزاد اپنے بیمار والد جو کہ کینسر کی وجہ سے 37 سال کی عمر میں 65 کے محسوس ہوتے  تھے۔ شہزاد  گھر سے نکلتے وقت یہ سب کہہ رہا تھا۔ شہزاد سانولی رنگت ،کمزور صحت اور معصوم  چہرہ رکھنے والا بچہ اسی عمر  اپنے والد اور  بڑی بہن جو کہ 15 سال کی تھی، دونوں کی کفالت کررہا تھا۔شہزاد  روزانہ "نیشنل ہائی وے" پر چلنے والی "کوچ" میں  سفر کرکے روزگار حاصل کرتا،جس میں اترتے چڑھتے مسافروں کو مختلف اشیاء فروخت کرتا۔ کبھی بس مالکان ترس کھا کر اسے بس میں چڑھنے دیتے اور اس کی مطلوبہ جگہ پر یا کسی اہم مقام بار اسے اتار دیتے، کبھی کبھار تو بس مالکان اس کے مال میں سے کچھ اٹھا کر کھا لیتے یا اپنے پاس رکھ لیتے۔ صبر کی انتہا دیکھیں۔ یہ 11 سالہ بچہ، اس قدر ماحول سے واقف ہو چکا تھا  کہ وہ بس مالکان ان کی ناجائز طریقے سے  اٹھائی ہوئی چیزوں کی قیمت نہ مانگتا کیونکہ وہ جانتا تھ...

"خدا کی محبت کی طرف گامزن ہونے کی ضرورت" از قلم محمد ارسلان مجدؔدی "The Need to Take God's Love" writen by Muhammad Arsalan Mujadidi

Image
"خدا کی محبت کی طرف گامزن ہونے کی ضرورت" از قلم: محمد ارسلان مجدؔدی موجودہ صورتحال کے مطابق لاکھوں افراد خوف کا شکار ہیں۔ وجہ موت سے خوف وہ بھی بدترین موت جو عزاب الہی یا قحط کی وجہ سے آتی ہے۔ ماضی میں تاریخ گواہ ہے کہ قحط نہیں آیا تھا بلکہ انسانی نظام کے غلط فیصلوں کی وجہ سے لاکھوں انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔ درج ذیل مثالیں ملاحظہ فرمائیں ۔  1943-1944 ء کے بنگال کے قحط کی وجہ خراب فصل نہیں تھی۔ انگریز سارا غلہ دوسرے ممالک میں اپنی بر سر پیکار فوجوں کو بھیج رہے تھے جس کی وجہ سے غلے کی قلت ہو گئی تھی۔ انگریزوں کو یہ خطرہ بھی تھا کہ جاپانی برما کی طرف سے ہندوستان میں نہ داخل ہو جائیں اس لیے انہوں نے بنگال کا سارا اناج برآمد کر دیا کہ جاپانی فوج کو غلہ نہ مل سکے۔ اس قحط میں 30 لاکھ لوگ مر گئے۔ 1845 میں آئرلینڈ میں شدید قحط آیا جس سے 1,029,000 لوگ مر گئے۔ تاریخ میں وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ آلو کی فصل ناکام ہونے کی وجہ سے یہ قحط آیا تھا جبکہ اسی سال آئرلینڈ سے اتنا غلہ ایکسپورٹ ہوا جو بھوک سے مرنے والوں کی چار سال تک غذائی ضرورت پوری کر سکتا تھا۔ اللہ اور اس کے آخری رسولﷺ نے...
Image
"امن کا پیغام" تحریر: محمد ارسلان مجدؔدی Email: marsalan484@gmail.com "حکومت پاکستان" اور عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی اور دشمن کی سازشوں کا دلیری سے مقابلہ اپنی سرزمین پر کر رہے ہیں۔ پاکستان کی سرزمین پر کئی خودکش حملے ہوئے۔ جس میں کئی افوج پاکستان، رینجر اور پولیس کے جوانوں سمیت  عوام میں  بوڑھے بچے اور عورتیں سبھی نے اپنی جان کے نذرانے پیش کیے۔ پھر بھی اس پاک ملک پر جھوٹے الزامات پڑوسی ملک کی طرف سے لگتے رہے۔ اللہ کریم کی ذات  بہت کریم ہے۔ جس نے گذشتہ برس 27 فروری 2019 کو  دنیا کے سامنے پاکستان کو سرخرو فرمایا۔ اور  پاکستان کا  نام روشن فرمایا۔ مجھے اب  بھی وہ منظر یاد ہے جب مجھے میرے ہم جماعتوں نے  یہ خبر دی کہ پاکستان کی کاروائی کی بدولت  بھارت کے طیارے گرائے جا چکے ہیں  اور ان کے ایک پائلٹ کی تلاش جاری ہے۔ فوری طور پر جب ہم نے انٹرنیٹ پر آن لائن خبر دیکھنے کی کوشش کی یہ خبر درست ثابت ہوئی۔ ہم دعا گو  ہوئے تھے کہ پاکستان کو فتح نصیب ہو۔  وہی ہوا چند منٹوں بعد پھر خبر موصول ہوئی  کہ بھارتی پائلٹ کو گرفتار ک...