سو لفظی کہانی منصف کون بنے گا؟ ازقلم: محمد ارسلان مجددی

سو لفظی کہانی

منصف کون بنے گا؟

ازقلم: محمد ارسلان مجددی



سماج کے  طعنوں اور اپنی غیرت نے ایسا دماغ مفلوج کیا کہ دن کی سفید روشنی میں فریاد کرتی بہن کو   قتل اور بھانجوں کو ہمیشہ کے لیے یتیم کر چکا تھا۔ ایک ہی گھر میں قاتل اور مقتول تھے۔ مگر بچے ماں کا آخری دیدار نہ کر سکے۔ ماں کی محبت نے بیٹے کو آزاد کروا لیا۔ لیکن مقتول کی فریاد اور انصاف ادھورا رہ گیا۔قصور فقط اتنا تھا کہ اس نے والدین کی عدم رضا سے شادی کی۔ کیا اس کی سزا صرف موت تھی؟ کیا بھائی رحم کے قابل تھا کہ قتل کے بعد آزاد گھومے؟

Comments

Popular posts from this blog

موجودہ حالات اور عام آدمی از قلم محمد ارسلان مجدؔدی

عید کے موقع پر کراچی سے ٹھٹہ کا سفر محمد ارسلان مجددی

"مغربیت کا غلبہ اور ہم" از قلم: محمد ارسلان مجددی