یومِ اطفال: بچوں کے حقوق اور مستقبل کی تعمیر کا دن محمد ارسلان مجددی ہر سال 20 نومبر کو دنیا بھر میں یومِ اطفال منایا جاتا ہے، جس کا مقصد بچوں کے حقوق کا تحفظ، ان کی فلاح و بہبود، اور بہتر مستقبل کے لیے شعور بیدار کرنا ہے۔ 20 نومبر کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ 1959ء میں اقوام متحدہ نے "بچوں کے حقوق کا اعلامیہ" اور 1989ء میں "بچوں کے حقوق کے کنونشن" کی منظوری دی۔ اس دن کا مقصد دنیا بھر کے بچوں کو محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنے کے لیے عزم کی تجدید ہے۔ یومِ اطفال کی تاریخی پس منظر بچوں کے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد 1924ء میں "جنیوا میں بچوں کے حقوق کا اعلامیہ" سے شروع ہوئی۔ بعد ازاں 1959ء میں اقوام متحدہ نے بچوں کے حقوق کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے "عالمی اعلامیہ" پیش کیا، جس میں بچوں کے تحفظ، صحت، اور تعلیم کو یقینی بنانے کے اصول شامل تھے۔ 1989ء میں "بچوں کے حقوق کے کنونشن" کی منظوری نے بچوں کے حقوق کو عالمی سطح پر ایک قانونی حیثیت دی، جسے بیشتر ممالک نے تسلیم کیا۔ بچوں کے حقوق کا تحفظ: ایک اہم ذمہ داری یومِ اطفال کا مقصد صرف خوشیاں ...
Posts
ملیریا سے بچاؤ کا عالمی دن محمد ارسلان مجدؔدی
- Get link
- X
- Other Apps
ملیریا سے بچاؤ کا عالمی دن محمد ارسلان مجدؔدی 25 اپریل کو ہر سال ملیریا سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ عالمی ادارہ صحت کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی جاسکے اور عام لوگوں میں ملیریا سے بچنے کی معلومات عام الناس کو دی جاسکے۔ اس مرض کی درست تشخیص بروقت نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال دنیا میں 20 کروڑ افراد متاثر ہوتے ہیں۔پاکستان میں 10 لاکھ ارفراد اس خطرناک بیماری کا شکار ہوتے ہیں ، اس کی وجہ سے 5 سال کم عمر دو تہائی بچے شکار ہوتے ہیں۔ ملیریا کے خاتمے کے لیےپاکستان میں 3 ہزار ادارے قائم ہیں، جن کا ہدف ہے کہ یہ بیماری جلداز جلد ختم ہو سکے۔ آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ پاکستان کے تمام کے صوبوں میں 66 اضلاع متاثر ہیں۔ سب سے زیادہ دریا،نہر، ندی اور نالوں کے قریب رہائشی متاثر ہوتے ہیں جن کی اکثریت غریب ہے۔ افسوس یہ بیماری ہزاروں پاکستانیوں کی ہر سال جان لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ملیریاکے اعتباردنیا کے حساس ترین ممالک میں شامل ہے۔ اس حوالے سے عالمی امداد اور سرکاری امداد ہونے کے باوجود پاکستانی محفوظ نہیں۔ مزدور، ٹرانسپورٹرز، جھونپڑی کے رہائشی غرض سندھ و بلوچستان ...
مضموم کلیجہ ازقلم: محمد ارسلان مجددی
- Get link
- X
- Other Apps
مضموم کلیجہ ازقلم: محمد ارسلان مجددی صبح کی بارش کے بعد پرندے درختوں پر بیٹھے شور مچا رہے تھے۔ زمین تیز بارش کے باعث انتہائی گیلی ہو چکی تھی۔ آس پاس کے کھیتوں سے اٹھتی خوشبو اور ہلکی ہلکی ہوا نے موسم سہانا کر دیا تھا۔ 12 سالہ شمائل اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے گھر رکنا چاہتی تھی، مگر ماں نے سختی کی کہ نہیں اسکول جا کر وہاں اپنی ہم جماعت لڑکیوں سے کھیلنا اور پڑھنا بھی۔۔۔ اسکول پہنچ کر شمائل کو معلوم ہوا کہ اب تک کوئی نہیں پہنچا مگر یہاں ایک بزرگ مالی پودوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے جنہوں نے قریب آ کر شمائل کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا اور پھر چھاؤں میں بیٹھنے کی تاکید کی اور پودوں کی صفائی میں مصروف ہو گئے۔ موسم کی خوشگواری نے شمائل کی آنکھوں میں نیند بھر دی۔ کلاس کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے وہ باقی بچوں اور اپنی ٹیچر کا انتظار کرنے لگی۔ مگر اسے معلوم نہیں تھا دور دراز گاؤں کے راستے بارش کے پانی سے خراب ہونے کی وجہ سے کوئی نہیں آ رہا۔ اسے نیند کے جھونکے آئے اور سو گئی۔ قریب 10 منٹ بعد بزرگ مالی شمائل کے قریب آئے اور اپنے سر سے د...
اخلاق سب کا حق از قلم: محمد ارسلان مجددی
- Get link
- X
- Other Apps
اخلاق سب کا حق از قلم : محمد ارسلان مجددؔی اکثر ہم یہ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ بیس یا پچیس سال کی عمر کے بعد کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سخت ذہن کے مالک بن جاتے ہیں۔ تنہا رہنا، کم بولنا، دوست نہ بنانا،دوسروں سے اپنی بات کا اظہار نہ کرنا اور اپنی خواہشات کو محدود سے محدود کر دینا یہ ان کی عادات میں شامل ہو جاتا ہے۔ کبھی وجہ جاننے کی کوشش کریں تو سب کی ملتی جلتی کہانی نظر آتی ہے ۔یہ جوان لڑکے یا لڑکیاں جو ایک وقت میں بہت معاون، ہنس مکھ ، باتونی اور شرارتی ہوتے ہیں۔ گھریلو سخت رویے، ہر وقت کی تنقید، طنز اور طعنے ان کے دل و دماغ کو کمزور کر دیتے ہیں۔ احساس کمتری کسی بھی بچے کو پیدائشی طور پر فطرت میں نہیں ملتی مگر جب ہم بار بار کسی بچے کو اس کے خواہشات سے روک رہے ہوتے ہیں، خواہ وہ خواہشات اس قدرتی اور منفرد صلاحیت کو اجاگر کرنےمیں مدد بھی فراہم کر رہی ہو۔ ہم یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ جسے ہم احساس کمتری کی طرف یا محدود سے محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کل کو یہی بیٹا یا بیٹی والدین، خاندان، قوم اور ملک کا نا...
عید کے موقع پر کراچی سے ٹھٹہ کا سفر محمد ارسلان مجددی
- Get link
- X
- Other Apps
عید کے موقعے پر کراچی سے ٹھٹہ کا سفر محمد ارسلان مجددی میں عام دنوں میں اکثر سندھ کے تاریخی شھر ٹھٹہ کا سفر کرتا رہتا ہوں میری رہائش کراچی میں ہے ـ عید الفطر کے موقع پر آج بھی 5 مئی 2022 کی صبح کے پانچ بجے کراچی سے میں نے ٹھٹہ کے لیے سفر کا آغاز کیا۔ قائدہ آباد سے ٹھٹہ تک تقریباً 90 کلومیٹر تک میں نے عوام کا رش دیکھا جو سیر و تفریح کی غرض سے اندرون سندھ کا سفر کر رہے تھے۔ کچھ لوگ اہل و عیال کے ساتھ تھے تو کچھ بغیر فیملی کے۔ خوشی ہوئی کہ لوگ بلا خوف و خطرہ خوشیاں منانے اندرون سندھ کا سفر کر رہے ہیں۔ کراچی میں لسانی نفرت پھیلائی جاتی ہے اس سب کو بھلا کر یہ سب لوگ سندھی بھائیوں کے درمیان خوشیاں مناتے ہیں۔ اسی خوشی کو دگنا کرنے کے لیے سندھی بھائی بھی پیش پیش تھے کہ مسافروں کے لئے ضرورت کی تمام دکانیں کھلی رکھیں جیسا کہ مکینک ، ٹائر پنکچر ، ہوٹل اور دوسری ضرورت کی دکانیں وغیرہ۔ صبح پانچ بجے اندھیرے میں کچھ لوگ گھگھر پھاٹک سے گھارو تک اپنی گاڑیوں کو دھکا لگا رہے تھے تو کچھ لوگ ٹائر پنکچر لگوا رہے تھے تو کچھ سڑک ...
"مغربیت کا غلبہ اور ہم" از قلم: محمد ارسلان مجددی
- Get link
- X
- Other Apps
" مغربیت کا غلبہ اور ہم " از قلم: محمد ارسلان مجددی ہم بچپن سے بلوغت تک مختلف ذرائع سے سنتے اور جانتے آئے ہیں کہ اسلام کے ماننے والوں کو اول دن سے کمزور کرنے کے لیے منافقین نے کئی منصوبے بنائے۔ ابتداء صحابہ کرام کے ادوار سے ہوئی جہاں اہل بیت اور صحابہ کرام کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ خیر اہل بیت اور صحابہ کرام سے محبت کرنے والے آج بھی دل سے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین پر عمل پیرا ہیں۔ جیسے ہم قیامت کے قریب ہو رہے ہیں دجالی فتنہ بڑھ رہا ہے۔ سادہ مسلمان جو احادیث اور قرآن پاک کا علم انتہائی کم رکھتے ہیں ان کو سوشل میڈیا پر مختلف سوالات اور بہانوں بہکانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اتنا ہی نہیں اب فلم ، گانےاور فحاش زبان بولنے کا رواج آزادی کے نام پر عام کیا جا رہا ہے۔ یعنی مسلمان ہو کر کفار کی عادات اپنائی جا رہی ہیں۔ 61 ہجری میں کربلا کے مقام پر جو کچھ ہوا اسے آج ہم تمام مسلمان دل سے تسلیم کرتے ہیں کہ اہل بیت کی گستاخی، پھر ان کو تکالیف دینا اور انہیں شہید و رسو...
درد دل
- Get link
- X
- Other Apps
افسانہ دردِ دل مصنف: محمد ارسلان مجددی وحید بیٹا میرا شربت پینے کو دل نہیں کر رہا ویسے بھی ڈاکٹر نے میٹھا کم استعمال کرنے کو کہا ہے۔ ایمان ماتھے کا پسینہ صاف کرتے ہوئے بیٹے کو ڈانٹ رہی تھی۔ اتنے میں ایمان کا بڑا بیٹا اسد اور شوہر کمرے میں داخل ہوئے۔ اسد نے ماں سے پہلا سوال کیا: "امی جان آج تو آپ مجھے بتا ہی دیں ایسا کونسا درد سالوں سے دل میں لیے بیٹھی ہیں کہ دردِ دل کی شدت بڑھتی جارہی ہے اور آپ کی جسمانی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ آپ کو خوش رکھنے کی کوشش کریں ورنہ بہت جلد ذہنی دباؤ کی وجہ سے اپنا ہوش گنوا دیں گی۔ آخر ایسا کیا ہے؟" اسد بیٹا ابھی مجھے کھانا کھانے دو۔ پھر شام کو فرصت سے ہم سب بیٹھیں گے تو کچھ احوال سنا دوں گی۔ پانچ منٹ بعد گھر کے سبھی افراد بھنڈی کے سالن اور لسی سے کھانے کا لطف لے رہے تھے۔ کھانا کھاتے ہی سبھی جسم کو آرام دینے کے لیے سو گئے۔ کیونکہ صبح نماز فجر کے وقت اچانک ایمان کو ہسپتال لے جانا پڑا اور اسی کشمکش میں کسی کو ناشتہ کرنے کا ہوش تک نہیں رہا تھا۔ اسد، وحید اور بڑی بہن تنزیلہ تینوں نماز عصر پڑھ کر شیشم کے درخت تلے چار پائی بچھ...
"تنہائی اور خزاں"
- Get link
- X
- Other Apps
" تنہائی اور خزاں " محمد ارسلان مجددی آج چالیس سال بعد"عبدالسلام" پارک کی بینچ پر آ کر بیٹھے تو دل و دماغ میں سکون نہ تھا۔ پودوں اور پھولوں کو پانی دیتا مالی موسم بہار کی ٹھنڈی ہوا اور پھولوں سے اٹھتی خوشبو کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اتنے میں ایک صاحب اپنے تین بچوں کو ڈانٹ رہے تھے۔ بیٹا ان پھولوں کی خوشبو محسوس کریں۔ پھولوں کو توڑنا منع ہے۔ وہ دیکھو سامنے بورڈ پر ہدایت نامہ لکھا ہے۔ اس صاحب کی بات سنتے ہی "عبدالسلام" ماضی کو یاد کرنے لگے۔ یہ 1986ء کا سال تھا۔ جب عبدالسلام اپنی اہلیہ آسیہ کے ساتھ بیٹوں عظیم اور علیم کو اس پارک میں لائے تھے۔ یہ اس پارک کے ابتدائی دن تھے اور پارک میں جب داخل ہوئے تھے صرف چند معزز خاندان تفریح کی غرض سے موجود تھے۔ ہلکی بوندا باندی کے بعد پارک میں تازہ ہوا اپنی طرف مائل کرکے پارک میں لا رہی تھی۔ عبدالسلام نے آ کر ہاتھ میں پکڑا بیگ بینچ کے پاس رکھا، جس میں پانی اور تھورا کھانے کا سامان موجود تھا۔ یہ چند منٹ قبل بیکری سے خرید لائے تھے تا کہ پارک میں بھوک محسوس ہوتے ہی کھا سکیں۔ ...
صاف سماج
- Get link
- X
- Other Apps
صاف سماج از قلم: محمد ارسلان مجددی صبح کے پونے آٹھ بج رہے تھے وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے سکول چھوڑنے جا رہے تھے۔ اس بزرگ کے ہاتھ میں میں کچرے کی تھیلی تھی جو انہوں نے گلی کے کونے پر پڑے ایک ملبے پر رکھی۔ اتنی میں نے انہیں آواز دی بابا جی آپ یہاں ایک تھیلی رکھے ہیں کچھ لوگ اس ایک تھیلی کی آڑ میں بہت سارا کچرا پھینک دیں گے۔ جواباً انہوں نے شفقت سے کہا، ہاں بھائی میں بیٹی کو سکول چھوڑنے کے بعد یہ تھیلی یہاں سے اٹھا لوں گا اور کچرا کوڑی پھینک آؤنگا۔ یہ سن کر میں خاموش ہوگیا اور انتظار کرنے لگا۔ قریب دس منٹ ہی گزرے تھے کہ وہ بزرگ آئے اور کچرے کی تھیلی اٹھا کر کچرا کوڑی کی طرف چل پڑے۔ ان کی یہ دیانت داری دیکھ کر میں حیران اور خوش رہ گیا۔ میں اس سوچ میں تھا کہ اب بھی میرے ملک میں دیانت دار اور محب وطن موجود ہیں۔ جو اپنے محلے اور معاشرے کو صاف رکھنا چاہتے ہیں۔ ورنہ میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو کچرے کو اٹھا کر چلنا اور یہ کچرا دان میں پھینکنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ دوسری صورت میں وہ یہ کچرا اپنی چھوٹے بچوں کے ہاتھوں پھینکواتے ہیں یا پھر کوئی کوئی جمعدار اٹھا کر لے جاتا ہے۔...
اجڑ گیا گھر
- Get link
- X
- Other Apps
اجڑ گیا گھر از قلم: محمد ارسلان مجددی محلے میں اچانک خبر آئی مستری صاحب کا سڑک حادثے میں ٹانگ ٹوٹ گئی۔ گھر کا واحد سرپرست اور کمانے والا معذور ہوگیا۔ بیٹا،بیٹی اور اہلیہ صدمے تھے اور مستری صاحب جناح ہسپتال میں داخل۔ روازنہ کی حاصل کمائی پر چلنے والا گھر اب کس طرح ادھار لے کر علاج کرے گا۔ کار سوار مستری کی موٹر سائیکل کو ٹکر مار کر اپنی زندگی میں خوش لیکن ادھر خوشیاں روٹھ گئی تھیں۔ اجڑ گیا گھر درج بالا ایک واقعہ حقیقت پر مبنی اپنی کئی داستانیں رقم کرے گا۔ بیٹا،بیٹی اور اہلیہ زمانے کی تلخیاں سہنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ اللہ پاک نے انہیں رزق ضو حلال کمانے والا سرپرست عطا کیا تھا۔ لیکن سڑک پر چلنے والے بے فکر اور لاپرواہ انسانوں نے ان کی زندگی کو اجاڑ دیا۔ آپ نے اپنے اردگرد کئی لوگ معذور اور لاچار دیکھے ہونگے۔ جن کی زندگی کا سفر آہستہ ہو جاتا ہے۔ معذوری کی وجہ سے اپنا ہنر اور صلاحیت کا جوہر نہیں دیکھا پاتے۔ مجبورا زندگی کے دوسرے شعبے سے دوستی کرنی پڑتی ہے۔ کئی خواتین کے دیہاتوں میں گاس کاٹنے والی مشین سے ہاتھ یا بازو کٹ جاتے ہیں اور زندگی بھر معذور ہو جاتی ہیں۔...
ایک حادثہ
- Get link
- X
- Other Apps
ایک حادثہ از قلم محمد ارسلان مجددی اماں آپ کہاں جا رہی ہیں؟ دس سالہ ذیشان نے پوچھا... ماں: بیٹا میں کپاس کی فصل سے گھاس کاٹنے جا رہی ہوں۔ مگر تم نہیں چل سکتے.. یہ سنتے ہی ذیشان نے اپنا چہرہ صاف کیا اور ماں سے کہنے لگا۔ اماں مجھے بھی لے چلیں، میں کجھور کے درخت کے نیچے گری کجھور چن کر کھاؤں گا۔ ماں نے سنا تو پہلے آسمان کی طرف دیکھا پھر اردگرد آب ہوا کا جائزہ لیا۔ پھر ذیشان سے کہا "ہوا تیز اور بادل گھنے چھا رہے ہیں۔ لگتا ہے بارش آئے گی۔ پھسلن میں گھاس اور تمہیں کیسے سنبھالوں گی؟ یہ سنتے ہی ذیشان نے ماں کو دلاسا دیتے ہوئے کہا "اماں میں کجھور اکٹھی کرکے آپ سے پہلے واپس آجاؤں گا". ماں نے حامی بھر لی۔ ایک ایکڑ کے بعد دونوں ماں بیٹا الگ راستے ہو لیے۔ کجھور کے نیچے پہنچ کر ذیشان نے گری ہوئی کجھور چننا شروع کی تو بادل برسنے لگے۔ ذیشان نے تیزی سے اپنی جیب میں کجھور ڈالنی شروع کی تو اچانک سانپ نے اسے ڈس لیا۔ ذیشان برستی برسات میں ماں کی طرف دوڑا مگر ناکام۔ ایک گھنٹے بعد ماں کوس رہی تھی کہ ایک لمحہ ساتھ چلی جاتی تو ایسا نہ ہوتا۔
Goodness
- Get link
- X
- Other Apps
Goodness By Muhammad Arsalan Mujaddidi He was collecting plates while sweating. Suddenly the hotel owner gave a vile kind of abuse and asked to do another job. An old man sitting nearby saw all this and said, "Sir, you are a hotel owner. You look conscious, but you are small." Poor child stay brave The hotel owner got angry when he heard this. "Baba, you came here to eat. If you have eaten, come here. This is a private matter of our hotel. This child is a work thief." The elders stood up and grabbed the arm of the ten-year-old boy and said, "Son, do your job from today." There is no need to work here where there is no respect. The child was watching in amazement when the hotel owner stepped forward. Sir who are you Be a stranger Neither the child knows you nor you the child. Then why so much sympathy? No intention of kidnapping or losing a child? Leaving the child, the elder said, "Look, brother, he has three plots and a buil...
بھلائی
- Get link
- X
- Other Apps
بھلائی از قلم محمد ارسلان مجددی وہ پسینہ صاف کرتے ہوئے پلیٹیں جمع کر رہا تھا۔ اچانک ہوٹل مالک نے ایک گھٹیا قسم کی گالی دی اور دوسرا کام کرنے کو کہا۔ قریب بیٹھے ایک بزرگ نے یہ سب دیکھا تو کہا جناب آپ ہوٹل مالک ہیں شکل و صورت سے باشعور بھی نظر آتے ہیں مگر آپ کم ظرف ہیں۔ ہوٹل مالک یہ سنتے ہی بھڑک اٹھا۔ "بابا آپ ادھر کھانا کھانے آئے تھے۔ کھانا کھا چکے ہیں تو یہاں سے تشریف لے جائیں۔ یہ ہمارے ہوٹل کا ذاتی معاملہ ہے۔ یہ بچہ کام چور ہے". بزرگ اٹھ کھڑے ہوئے اور اس دس سالہ بچے کا بازو پکڑ کر کہا چلو بیٹا آج سے آپ اپنا کام کرنا۔ یہاں کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے جہاں عزت ہی نہ ہو۔ بچہ یہ سب حیرانی سے دیکھ ہی رہا تھا کہ ہوٹل مالک آگے بڑھا۔ جناب آپ ہیں کون؟ اجنبی ہو۔ نہ بچہ آپ کو جانتا ہے نہ آپ بچے کو۔ پھر اتنی ہمدردی کیوں؟ کہیں بچے کو اغوا یا گم کرنے کا ارادہ تو نہیں ہے؟ بزرگ نے بچے کا چھوڑتے ہوئے کہا دیکھو بھائی وہ سامنے میرے تین پلاٹ اور ایک بلڈنگ ہے۔ کافی عرصہ سے دوسرے علاقے میں رہائش پذیر تھا۔ اب یہاں آگیا ہوں۔ اتنا تعارف کافی ہے۔ یہ کہتے ہوئے بزرگ بچے کو اپنے ساتھ لے گئے اور ایک دکان...
مجبور عوام از قلم محمد ارسلان مجددی
- Get link
- X
- Other Apps
مجبور عوام از قلم: محمد ارسلان مجددی شہر قائد کو پاکستان کے تمام غرباء اپنے لیے اہم وسیلہ سمجھتے ہیں۔ چونکہ یہاں لاکھوں افراد اپنا آبائی وطن چھوڑ کر یہاں روزگار کی خاطر منتقل ہوئے۔ ہزاروں خاندان تو مستقل اپنی زندگی کراچی کے نام کر چکے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں افراد بسوں اور ٹرینوں کے ذریعے کراچی کی طرف سفر کرتے ہیں۔ مقصد صرف بہتر روزگار کی تلاش ہے۔ گزشتہ ایک برس میں عالمی وبا کی وجہ سے لگنے والی سماجی پابندیوں نے نظام درہم برہم کر دیا ہے۔ کچھ دن پہلے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے اعلان کے بعد شہر قائد میں سختیاں مزید بڑھا دی گئیں۔ وہ مزدور طبقہ جو کھانا صرف ہوٹل سے کھاتا ہے اسے شام 6 بجے کے بعد مسائل کا سامنا ہے۔ وہ افراد جن کی کی ملازمت شام پانچ بجے کے بعد ختم ہوتی ہے ان کو زیادہ پریشانی کا سامنا ہے۔ خاص کر جب سڑک پر ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے لوگ دیر سے گھر پہنچتے ہیں۔ پھر اس وجہ سے سودا سلف بھی دیر سے لینے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ یہ غریب طبقہ روزانہ کی آمدنی پر زندگی منحصر رکھتا ہے۔ شام چھ بجتے ہی پولیس کی گاڑی اعلان کرتی آجاتی ہے کہ دکانیں بند دیں۔ یہ ...
چاند سا بیٹا از قلم: محمد ارسلان مجددی
- Get link
- X
- Other Apps
افسانہ: چاند سا بیٹا از قلم: محمد ارسلان مجددی فون کی گھنٹی بجی تو ماں نے گڑیا سے کہا "فون اٹھاؤ دیکھو کہ فون پر کون ہے۔ فون سننے کے بعد شام کی چائے بناتی ماں کے پاس گڑیا دوڑتی آئی۔ مما مما مما وہ فون پر کوئی کہہ رہا ہے رضوان بھائی ہسپتال میں ہیں۔ پہلے تو ماں کو اپنے کانوں پر یقین نہ ہوا۔ جب گڑیا سے دوبارہ پوچھ کر تصدیق کی تو پھر تیزی سے ماں نے redial کے بٹن کو دبایا۔ کچھ دیر میں فون پر کوئی بزرگ مخاطب تھے۔ بزرگ: اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ خاتون : وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بزرگ کی آواز سنائی دینے پر خاتون نے سوال کیا کہ "آپ کون بات کر رہے ہیں؟ کیا آپ نے ابھی فون کرکے میرے بیٹے کا بتایا تھا؟ کہاں ہے میرا رضوان اور اسے کیا ہوا ہے؟ چند لمحوں میں کئی سوال پوچھ ڈالے۔ بزرگ: جی میں نے ہی فون کرکے اطلاع دی تھی۔ بہن آرام اور تحمل سے بات کریں۔ مجھے تیز سننے کی عادت نہیں۔ دراصل آپ کا بیٹا ہمیں سڑک حادثے پر ملا ۔ ہم اسے ہسپتال لائے ہیں۔ آپ جناح ہسپتال ایمرجنسی وارڈ آجائیں۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد خاتون اپنے خاوند کے ساتھ ہسپتال میں دیوانگی سے اپنے بیٹے کو تلاش کر رہی تھی...